• عشق کیا ہے؟
    —————–

    کچھ چیزیں ناقابل فہم حد تک حیران کن ہوتی ہیں – سمجھ سے باہر، ادراک کی حدوں سے آگے ، عجیب اسرار میں لپٹی ہوئی کچھ چیزیں بہت پریشان کرتی ہیں – اس عشق کو ہی دیکھ لیں- عشق کیا ہے؟ عشق عشق ہے …اس کی شدت کا اندازہ ایک عاشق ، سچا عاشق ، نیک نیت عاشق ہی لگا سکتا ہے ، یہ جو ہر جگہ عامیانہ اور گھسے پٹے شعر نظر آتے ہیں، کسی ویب سائٹ پر، کسی بلاگ پر، کسی رکشے پر ، تو یہ جو محبت پر لکھے شعر ہوتے ہیں، یہ اس جذبے کی توہین بلکے کھلی ہتک کے مترادف ہوتے ہیں – یہ شغل کے طور پر تو سمجھ آتے ہیں مگر ان سے محبت لفظ سمجھنے کی کوشش کرنا ایسے ہی ہے جیسے لق و دق صحرا میں برسات کی توقع کرنا – ایسی برسات کے ہر طرف جل تھل ہو جایے – عشق اور چیز ہے، ایک اور ہی جہاں ہے ، ایک اور ہی منزل ہے ، ایک عجیب کیفیت کا نام ہے جو الفاظ میں بیان کرنا بیحد مشکل ہے، کجا کے ایک رکشے پر لکھے کسی رنگ باز کے ایک آدھہ مصرعے سے اس عشق کی تشریح ہو سکے- نہ ممکن ، قطعی ناممکن !

    جیسے تصور میں دو ایسے بندے لاییں جو ایک ندی کے کنارے براجمان ، ندی میں چھلانگ مارنے اور غوطہ لگانے کے خواہشمند مگر ڈر غالب ہے اور کنارے پر بیٹھے باتوں سے ہی ٹھرک پوری کر رہے ہوں “جی، یہ غوطہ لگانے کا اپنا مزہ ہے ، کیا توانائی سی آ جاتی ہے، عجب فرحت محسوس ہوتی ہے “اور ان میں سے ایک اچانک ، تمام حوصلہ مجتمع کر کے پانی میں کود پڑتا ہے ، تو اس کو ایک ہی جست میں تمام زبانی باتوں کا عملی تجربہ حاصل ہو جاتا ہے – اور کنارے پر بیٹھا ، ساری زندگی بھی باتیں اور تشبیہات بنا لے تو اس کودنے والے کے عملی تجربے کی گرد نہیں چھو سکتا – یہ عشق پر باتیں کرنے والے بھی کچھ ایسے ہی ہیں ، عشق کیے بنا ہی تجربوں کے خالی مٹکے انڈیلے جاتے ہیں، جس کی حقیقت میں اہمیت صفر ہی ہے -

    انسان کی برداشت کی آخری حد سے عشق کی ابتدا ہوتی ہے – یہ معاملہ کیا ہے ؟ کیوں کسی کی یاد، آپ کو بے چین و مضطرب کیے رکھتی ہے – ایسی یاد جس میں آمد ہو ، آورد نہیں – جس میں سچائی ہو، ڈھونگ نہیں – جس میں عشق ہو ، ہوس نہیں – کسی نے کیا خوب کہا ہے ” عشق نہ پوچھے ذات ” عشق کچھ نہیں دیکھتا ، مذہب ہو، عمر ہو، وقت ہو.زمان ہو یا مکان ہو، ممکن ہو یا نہ ممکن ہو ، بس ہو جاتا ہے ، جی ہاں، ہو جاتا ہے – اور کچھ بدنصیبی کہیے اور کچھ خوش نصیبی – ملن ہو جایے تو کیا کہنے، نہ ہو تو بندا اچھا خاص نکما اور “کچھ کام نہ جوگا” بن جاتا ہے -
    ایک لاشعوری شکست سی ہو جاتی ہے، انسان اس گمان سے ہی باہر نہیں نکل پاتا کے اس کی عشق میں ہار ہو گیی ہے – آخر کیوں کسی کی یاد اس کو بے وقت آتی رہتی ہے ؟ یہ سوال اسے جینے نہیں دیتا، وہ مکڑی کے جال میں کشمکش کی حالت میں پھڑپھڑاتا سا رہ جاتا ہے – اور سونے پر سہاگہ ، اگر یکطرفہ ہو جایے تو انا للہ پڑھ لیجیے – عجیب گلے پڑھنے والی چیز ہے یہ، آپ خود کو لاکھ باز رکھیں، بزرگوں کی نصیحتیں سنیں، مذہب میں دل لگایئں ، یا کسی اور سے ٹانکا لگا لیں، بار بار خود کو جتنا مرضی کہیں ” اوے ، بندے دا پتر بن ” مگر دل بندے دا پتر نہیں بندا —اور عشق زدہ ہو کر، جان اپنی جان آفریں کے سپرد کر دیتا ہے ، خلاص!

    اکثر رات کی تاریکی میں، یا دن کے اجالے میں یہی پلاننگ ہو رہی ہے کے یہ جو عشق کا منه زور گھوڑا ہے ، اس بے لگام کو کیسے لگام ڈالی جایے ، کبھی دولت ایک ایشو بن جاتی ہے، کبھی فیملی ، اور کبھی موصوفہ خود ایک کوہ گراں کی طرح مسلہ عظیم بن جاتیں ہیں – ان تمام مسائل کا ایک ہی حل ہے، اس بیماری عشق سے نجات ، تاکہ زندگی نارمل ڈگر پر آ سکے – عام طور پر شاعر حضرات دل پر لگی چوٹ کے سانحہ کے بعد ہی شاعری کر پاتے ہیں ،اک کتھارسس بن جاتی ہے- داستان عشق الفاظ میں بیان ہونے لگتی ہے ، داد الگ ملتی ہے داغ الگ ملتے ہیں -بہرحال عشق نے کام تمام کیا جیسی صورتحال میں پھنسنا ایک بدنصیبی ہے ، اور ایسا عشق جو ملن میں بدل جایے ، ایک خوشنصیبی ہے -عجب مقام فکر ہے ، عجب حال دل ہے، عجب موسم ویران ہے ، عجب ترنگ ہے، اور عاشق بیحد پریشان ہے ….

    دانشور حضرت اس خرابہ کو جذباتیت ، حساسیت اور رجائیت کا نام دیتے ہیں، طرح طرح کی دلیلیں تراشتے ہیں اور عشق کو فضول کہ کر عاشق پر پھبتیاں چسپاں کر دیتے ہیں، فی زمانہ ، عشق کو فضول اور بازاری کام سے ملا دیتے ہیں ، پڑھائی کرو، ذمہ دار بنو، جاب کرو، ملک و قوم کی خدمات کرو ، یہ سب ان کا ماٹو ہے — ہوش والوں کو خبر کیا ، بے خودی کیا چیز ہے –عشق کیجیے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے ، یہ غزل عاشق گنگنا کر، ان کے اعتراضات کو تمسخر آمیز انداز میں نظر انداز کر دیتا ہے – عشق حقیقی بھی تو ایک اعلی و ارفع قسم ہے، خالق سے عشق کریں، اس کی تخلیقات سے عشق کریں، اس کے محبوب بندوں سے عشق کریں، اس کی کتاب سے عشق کریں — اور باز منچلے اگر اس کی مخلوق سے عشق کر لیتے ہیں تو کیا برا کرتے ہیں ؟کونسی قیامت برپا ہو جاتی ہے ؟ عشق تو عشق ہے ، جس سے بھی ہو ، جب بھی ہو ، اپنی شدت اثرات تو چھوڑ ہی جاتا ہے ، عقل کہیں دور سے بس تکتی ہی رہی، اور عشق آتش نمرود میں کود گیا – یہ فضیلت عشق ہے، یہ کمال جذبہ ہے، یہ عروج جنوں ہے، یہی زندگی ہے، یہی قضا ہے، یہ تمنا اور یہی انتہا ہے ، یہی ابتدا اور یہی اشتہا ہے –یہی سب کچھ ہے !

    زیست میں عشق نہ کیا، تو کیا کیا؟ کتنی بے رنگ و بے توفیق اور بے مزہ ہے زندگی ، اگر اس عالم حیران میں انسان پرواز نہ کر سکے – کبھی اس آسمان پر، کبھی اس زمین پر، ان کہی باتوں کے سائے ہیں، ان دیکھی منزلوں کے نشان ہیں، ان چاہی چیزوں کی آرزو ہے، ایک طرف دل ہے، اور ایک طرف اس کا مکین ہے، یہ اسی نام پر بے قابو ہوا ہے،ہوتا ہے، ہوتا رہے گا، یہ دل اپنے محبوب کے نام کی مالا ، دھڑکن کی صورت میں جپتا رہتا ہے ، دھڑکتا رہتا ہے ، سانسیں چلتی رہتیں ہیں، محبوب کو یاد کرتی رہتی ہیں – یہاں تک کے اجل آ پہنچے ، زندگی ہار جایے مگر عشق ناتمام چلتا رہتا ہے، یہ فانی نہیں ہے، لا فانی ہے – انسان مر جاتا ہے ، روح زندہ رہتی ہے، جسم بوسیدہ ہو کر، مٹی تلے دفن ہو جاتے ہی، روحیں زندہ و تابندہ رہتی ہیں، جسم سمجھوتے کرتے ہیں ، روحیں عشق کرتی ہیں، جسم فانی ہوتے ہیں، مر جاتے ہیں – روحیں لا فانی ہوتی ہیں ، عشق کرتی رہتی ہیں – فہم سے کچھ دور، ادراک سے آگے ، ایک اور دنیا ہے ، جس کی خبر تو ہے، مگر نظام انجانا ہے ، مگر مجھے کامل یقین ہے کے اس کی بنیاد لہو عشق سے کی ہے، اور اس کی رونق و رنگ میں عشق کی آبیاری ہے، شراکت داری ہے ، اس نرالی دنیا میں جب پہنچیں گے تو جانیں گے کے جس کو حقیر جانا وہی صاحب توقیر نکلا ، ایک اور عاشق نکلا – ایک اور باب لکھا ، ایک اور سماں بندھا ایک اور منظر دکھا، یہ سب کیا ہے ؟ یہی عشق ہے ، یہی عشق ہے

    کچھ چیزیں ناقابل فہم حد تک حیران کن ہوتی ہیں – سمجھ سے باہر، ادراک کی حدوں سے آگے ، عجیب اسرار میں لپٹی ہوئی کچھ چیزیں بہت پریشان کرتی ہیں – اس عشق کو ہی دیکھ لیں- عشق کیا ہے؟ عشق عشق ہے !