بات میری کبھی سنی ہی نہیں
جانتے وہ بری بھلی ہی نہیں

دل لگی ان کی دل لگی ہی نہیں
رنج بھی ہے فقط ہنسی ہی نہیں

لطف مے تجھ سے کیا کہوں زاہد
ہائے کمبخت تُو نے پی ہی نہیں

اُڑ گئی یوں وفا زمانے سے
کبھی گویا کسی میں تھی ہی نہیں

جان کیا دوُں کہ جانتا ہوں میں
تم نے یہ چیز لے کے دی ہی نہیں

ہم تو دشمن کو دوست کر لیتے
پر کریں کیا تری خوشی ہی نہیں

ہم تری آرزو پہ جیتے ہیں
یہ نہیں ہے تو زندگی ہی نہیں

دل لگی، دل لگی نہیں ناصح
تیرے دل کو ابھی لگی ہی نہیں

داغ کیوں تُم کو بے وفا کہتا
وہ شکایت کا آدمی ہی نہیں ۔۔۔

داغ

 

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s