چند روز اور مری جان : فیض احمد فیض

چند روز اور مری جان ! فقط چند ہی روز
ظلم کی چھاؤں میں دم لینے پہ مجبور ہیں ہم
اور کچھ دیر ستم سہ لیں، تڑپ لیں، رو لیں
اپنے اجداد کی رات ہے معذور ہیں ہم
جسم پر قید ہے، جذبات پہ زنجیریں ہیں
فکرِ محبوب ہے، گفتار پہ تعزیریں ہیں
اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جئیے جاتے ہیں
زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں
ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں
لیکن اب ظلم کی میعاد کے دن تھوڑے ہیں
اِک ذرا صبر کی فریاد کے دن تھوڑے ہیں
عرصہِ دہر کی جھلسی ہوئی ویرانی میں
ہم کو رہنا ہے پر یونہی تو نہیں رہنا
اجنبی ہاتھوں کا بےنام گرانبار ستم
آج سہنا ہے، ہیشہ تو نہیں سہنا ہے
یہ ترے حسن سے لپٹی ہوئی آلام کی گرد
اپنی دو روزہ جوانی کی شکستوں کا شمار
چاندنی راتوں کا بیکار دہکتا ہوا درد
دل کی بےسود تڑپ، جسم کی مایوس پکار
چند روز اور مری جان ! فقط چند ہی روز

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s