تجھے ہے مشقِ ستم کا ملال ویسے ہی
ہماری جان تھی جاں پر وبال وہسے ہی

چلا تھا ذکر زمانے کی بے وفائی کا
… سو آ گیا ہے تمھارا خیال ویسے ہی

ہم آ گئے ہیں تہہِ دام تو نصیب اپنا
وگرنہ اس نے تو پھینکا تھا جال ویسے ہی

میں روکنا ہی نہیں چاہتا تھا وار اس کا
گری نہیں مرے ہاتھوں سے ڈھال ویسے ہی

زمانہ ہم سے بھلا دشمنی تو کیا رکھتا
سو کر گیا ہے ہمیں پائمال ویسے ہی

مجھے بھی شوق نہ تھا داستاں سنانے کا
فراز اس نے بھی پوچھا تھا حال ویسے ہی

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s