ہو کر سوار توسنِ عمرِ رواں پہ آہ
ہم اس سرائے دہر میں کیا آئے کیا چلے

قاتل جو تیرے دل میں رکاوٹ نہ ہو تو کیوں
رک رک کے میرے حلق پہ خنجر ترا چلے

لبریز ہو گیا مرا شاید کہ جامِ عمر
تم وقتِ نزع مجھ سے جو ہو کر خفا چلے

کیا دیکھتا ہے؟ ، ہاتھ مرا چھوڑ دے طبیب
یاں جاں ہی بدن میں نہیں، نبض کیا چلے

لے جائیں تیرے کشتہ کو جنت میں بھی اگر
پھر پھر کے تیرے گھر کی طرف دیکھتا چلے

اس روئے آتشیں کے تصور میں یادِ زلف
ہے کیا غضب کہ آگ لگے اور ہوا چلے

(استاد ابراہیم ذوق)

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s