وصال و ہجر سے وابستہ تہمتیں بھی گئیں
وہ فاصلے بھی گئے ، اب وہ قربتیں بھی گئیں

دلوں کا حال تو یہ ہے کہ ربط ہے نہ گریز
محبتیں تو گئی تھیں ، عداوتیں بھی گئیں

لُبھا لیا ہے بہت دل کو رسم دنیا نے
ستم گروں سے ستم کی شکایتیں بھی گئیں

غرور کج کلہی جن کے دم سے قائم تھا
وہ جراتیں بھی گئیں ، وہ جسارتیں بھی گئیں

نہ اب وہ شدت آوارگی نہ وحشت دل
ہمارے نام کی کچھ اور شہرتیں بھی گئیں

دل تباہ تھا بے نام حسرتوں کا دیار
سو اب تو دل سے وہ بے نام حسرتیں بھی گئیں

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s