میں جس گمان میں رہتا ہوں ایک مدّت سے
وہ اس گمان کی حد کو تو چھو کے دکھلاۓ

مجھے بھلا یہاں کیسے سمجھ سکے کوئی
خود اس تلاش میں لمبے سفر سے ہو آۓ

ازیتوں کا ، دکھوں کا ہجوم رہتا ہے
مجھے قریب سے دیکھے کوئی تو مر جاۓ

بہت سے لوگ مجھے روز آ کے ملتے ہیں
کوئی تو ہو مجھے آ کے مجھ سے ملواۓ

میں رات دیر تلک سوچتا رہا خود کو
وہ سو گۓ ہیں جنہوں نے گناہ گنواۓ

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s