خاموش رہو —— ابن انشاء

کچھ کہنے کا وقت نہیں یہ ، کچھ نہ کہو خاموش رہو
اے لوگو خاموش رہو ، ہاں اے لوگو خاموش رہو

… سچ اچھا پر اس کے جلو میں زہر کا ہے اک پیالہ بھی
پاگل ہو ؟ کیوں ناحق سقراط بنو ، خاموش رہو

اُن کا یہ کہنا سورج ہی دھرتی کے پھیرے کرتا ہے
سر آنکھوں پر ، سورج کو ہی گھومنے دو ، خاموش رہو

مجلس میں حبس ہے اور زنجیر کا آہن چھبتا ہے !
پھر سوچو ، ہاں پھر سوچو ، ہاں پھر سوچو ، خاموش رہو

گرم آنسو اور ٹھنڈی آہیں ، من میں کیا کیا موسم ہیں
اس بھگیا کے بھید نہ کھولو ، سیر کرو ، خاموش رہو

آنکھیں موند کنارے بیٹھو ، من کے رکھو بند کواڑ
انشاء جی لو دھاگا لو اور لب سی لو ، خاموش رہو

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s