غزل

وہ رابطہ نہیں ، وہ محبت نہیں رہی
اس بے وفا کو ہم سے کچھ الفت نہیں رہی

… دیکھا تو مثلِ اشک نظر سے گرا دیا
اب میری ، اُس کی آنکھ میں عزّت نہیں رہی

رُندھنے سے جی کے کس کو رہا ہے دماغِ حرف
دم لینے کی بھی ہم کو تو فرصت نہیں رہی

تھی تاب جی میر جب تئیں رنج و تعب کھنچے
وہ جسم اب نہیں ہے ، وہ قدرت نہیں رہی

منعم امل کا طول یہ کس جینے کے لئے
جتنی گئی اب اُتنی تو مدت نہیں رہی

دیوانگی سے اپنی اب ساری بات خبط
افراطِ اشتیاق سے وہ مَت نہیں رہی

پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ
افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s