اس لئے تصویر جاناں ہم نے کھنچوائی نہیں
اُس کی خاموشی ہمارے دل کو جب بھائی نہیں

اس لئے تصویر جاناں ہم نے کھنچوائی نہیں
اصل کی خوبی جو ہے وہ نقل میں پائی نہیں

اس لئے تصویر جاناں ہم نے کھنچوائی نہیں
یہ اجازت ہم نے اپنے رشک سے پائی نہیں

اس لئے تصویر جاناں ہم نے کھنچوائی نہیں
روتے روتے رات دن آنکھوں میں بینائی نہیں

اس لئے تصویر جاناں ہم نے کھنچوائی نہیں
پیکر شیریں بناکر کیا ملا فرہاد کو

اس لئے تصویر جاناں ہم نے کھنچوائی نہیں
دیکھتا اُس کو تو ہو جاتا زمانہ بت پرست

اس لئے تصویر جاناں ہم نے کھنچوائی نہیں
نورِ عارض سے اندھیروں کو بنانا تھا محال

اس لئے تصویر جاناں ہم نے کھنچوائی نہیں
جان اپنی ڈال دیتے یہ نہ تھی قدرت ہمیں

اس لئے تصویر جاناں ہم نے کھنچوائی نہیں
چاہیے کاغذ کے بدلے مہرتاباں کا ورق

اس لئے تصویر جاناں ہم نے کھنچوائی نہیں
منھ نزاکت سے اُترجائے گا اُن کا تھا یہ خوف

اس لئے تصویر جاناں ہم نے کھنچوائی نہیں
چاہنے والوں میں ہو جاتا مصور دیکھ کر

اس لئے تصویر جاناں ہم نے کھنچوائی نہیں
جان ہے وہ جان کی صورت بنانا ہے محال

اس لئے تصویر جاناں ہم نے کھنچوائی نہیں
وصل آئینہ سے اُن کا ہم کو ہوتا ناگوار

اس لئے تصویر جاناں ہم نے کھنچوائی نہیں
دیکھنے سے اُس کے ہر دم ہوتی بیتابی سوا

اس لئے تصویر جاناں ہم نے کھنچوائی نہیں
کھینچ لایا ہے ہمارا جذبۂ دل خود اُسے

اس لئے تصویر جاناں ہم نے کھنچوائی نہیں
حسن کے جلوے کی تھی برداشت کب قرطاس کو

اس لئے تصویر جاناں ہم نے کھنچوائی نہیں
صورت اُس کی پھرتی ہے آنکھوں میں اپنی رات دن

اس لئے تصویر جاناں ہم نے کھنچوائی نہیں
خوبی قسمت سے اپنی خود وہ ہیں زیبِ کنار

اس لئے تصویر جاناں ہم نے کھنچوائی نہیں
بت پرستی کا کہیں حاسد نہ کردیں اتہام

اس لئے تصویر جاناں ہم نے کھنچوائی نہیں
دل میں صورت اُس کی آنکھوں میں تصور اُس کاہے

غالب صاحب کا نایاب کلام آپ سب کے نام

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s