اردو کے ضرب المثال شعر

  1. در پے ہے عیب جُو ترے، حاتم تو غم نہ کر دشمن ہے عیب جُو تو خدا عیب پوش ہے شاہ حاتم

    فکر معاش، عشق بتاں، یاد رفتگاں
    اس زندگی میں اب کوئ کیا کیا کیا کرے
    سودا

    جو کہ ظالم ہو وہ ہرگز پھولتا پھلتا نہیں
    سبز ہوتے کھیت دیکھا ہے کبھو شمشیر کا
    سودا

    دن کٹا، جس طرح کٹا لیکن
    رات کٹتی نظر نہیں آتی
    سید محمد اثر

    تدبیر میرے عشق کی کیا فائدہ طبیب
    اب جان ہی کے ساتھ یہ آزار جائے گا
    میر تقی میر

    اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میر
    پھر ملیں گے اگر خدا لایا
    میر تقی میر

    میرے سنگ مزار پر فرہاد
    رکھ کے تیشہ کہے ہے، یا استاد
    میر تقی میر

    شرط سلیقہ ہے ہر اک امر میں
    عیب بھی کرنے کو ہنر چاہئیے
    میر تقی میر

    بہت کچھ ہے کرو میر بس
    کہ اللہ بس اور باقی ہوس
    میر تقی میر

    مر گیا کوہ کن اسی غم میں
    آنکھ اوجھل، پہاڑ اوجھل ہے
    میر تقی میر

    یا تنگ نہ کر ناصح ناداں، مجھے اتنا
    یا چل کے دکھا دے ، دہن ایسا، کمر ایسی
    مہتاب رائے تاباں

    ٹوٹا کعبہ کون سی جائے غم ہے شیخ
    کچھ قصر دل نہیں کہ بنایا نہ جائے گا
    قائم چاند پوری

    کی فرشتوں کی راہ ابر نے بند
    جو گنہ کیجئیے ثواب ہے آج
    میر سوز

    ہشیار یار جانی، یہ دشت ہے ٹھگوں کا
    یہاں ٹک نگاہ چوکی اور مال دوستوں کا
    نظیر اکبر آبادی

    پڑے بھنکتے ہیں لاکھوں دانا، کروڑوں پنڈت، ہزاروں سیانے
    جو خوب دیکھا تو یار آخر، خدا کی باتیں خدا ہی جانے
    نظیر اکبر آبادی

    ٹک ساتھ ہو حسرت دل مرحوم سے نکلے
    عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
    فدوی عظیم آبادی

    رکھ نہ آنسو سے وصل کی امید
    کھاری پانی سے دال گلتی نہیں
    قدرت اللہ قدرت

    بلبل نے آشیانہ چمن سے اٹھالیا
    پھر اس چمن میں بوم بسے یا ہما رہے
    مصحفی

    ہزار شیخ نے داڑھی بڑھائ سن کی سی
    مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی
    انشا

    اے خال رخ یار تجھے ٹھیک بناتا
    جا چھوڑ دیا حافظ قرآن سمجھ کر
    شاہ نصیر

    آئے بھی لوگ، بیٹھے بھی، اٹھ بھی کھڑے ہوئے
    میں جا ہی ڈھونڈھتا تیری محفل میں رہ گیا
    آتش

    لگے منہ بھی چڑانے دیتے دیتے گالیاں صاحب
    زباں بگڑی تو بگڑی تھی، خبر لیجئیے دہن بگڑا
    آتش

    مشاق درد عشق جگر بھی ہے، دل بھی ہے
    کھاءوں کدھر کی چوٹ، بچاءوں کدھر کی چوٹ
    آتش

    فصل بہار آئ، پیو صوفیو شراب
    بس ہو چکی نماز، مصلّا اٹھائیے
    آتش

    زاہد شراب پینے سے کافر ہوا میں کیوں
    کیا ڈیڑھ چلو پانی میں ایمان بہہ گیا
    ذوق

    ان دنوں گرچہ دکن میں ہے بڑی قدر سخن
    کون جائے ذوق پر دلی کی گلیاں چھوڑ کر
    ذوق

    اسی لئے تو قتل عاشقاں سے منع کرتے ہیں
    اکیلے پھر رہے ہو یوسف بے کاررواں ہو کر
    خواجہ وزیر

    بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل
    کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا
    غالب

    غالب برا نہ مان جو واعظ برا کہے
    ایسا بھی کوئ ہے کہ سب اچھا کہیں جسے
    غالب

    دیا ہے خلق کو بھی تا اسے نظر نہ لگے
    بنا ہے عیش تجمل حسین خاں کے لئے
    غالب

    جانتا ہوں ثواب طاعت و زہد
    پر طبیعت ادھر نہیں آتی
    غالب

    گو واں نہیں ، پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں
    کعبے سے ان بتوں کو نسبت ہے دور کی
    غالب

    دام و در اپنے پاس کہاں
    چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں
    غالب

    کوچہ ء عشق کی راہیں کوئ ہم سے پوچھے
    خضر کیا جانیں غریب، اگلے زمانے والے
    وزیر علی صبا

    اذاں دی کعبے میں، ناقوس دیر میں پھونکا
    کہاں کہاں ترا عاشق تجھے پکار آیا
    محمد رضا برق

    الجھا ہے پاءوں یار کا زلف دراز میں
    لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا
    مومن

    شب ہجر میں کیا ہجوم بلا ہے
    زباں تھک گئ مرحبا کہتے کہتے
    مومن

    لگا رہا ہوں مضامین نو کے انبار
    خبر کرو میرے خرمن کے خوشہ چینوں کو
    میر انیس

    نسیم دہلوی، ہم موجد باب فصاحت ہیں
    کوئ اردو کو کیا سمجھے گا جیسا ہم سمجھتے ہیں
    اصغر علی خاں فہیم

    وہ شیفتہ کہ دھوم ہے حضرت کے زہد کی
    میں کیا کہوں کہ رات مجھے کس کے گھر ملے
    شیفتہ

    ہر چند سیر کی ہے بہت تم نے شیفتہ
    پر مے کدے میں بھی کبھی تشریف لائیے
    شیفتہ

    فسانے اپنی محبت کے سچ ہیں، پر کچھ کچھ بڑھا بھی دیتے ہیں ہم زیب داستاں کے لئے شیفتہ

    کیا لطف، جو غیر پردہ کھولے
    جادو وہ جو سر چڑھ کے بولے
    دیا شنکر نسیم

    دینا وہ اسکا ساغر مے یاد ہےنظام
    منہ پھیر کر اُدھر کو، ادھر کو بڑھا کے ہاتھ
    نظام رام پوری

    گرہ سے کچھ نہیں جاتا، پی بھی لے زاہد
    ملے جو مفت تو قاضی کو بھی حرام نہیں
    امیر مینائ

    وہ جب چلے تو قیامت بپا تھی چار طرف
    ٹہر گئے تو زمانے کو انقلاب نہ تھا
    داغ

    دی موء ذن نے شب وصل اذاں پچھلی رات
    ہائے کم بخت کو کس وقت خدا یاد آیا
    داغ

    سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں
    ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں
    داغ

    پان بن بن کے مری جان کہاں جاتے ہیں
    یہ مرے قتل کے سامان کہاں جاتے ہیں
    ظہیر الدین ظہیر

    ہم نہ کہتے تھے کہ حالی چپ رہو
    راست گوئ میں ہے رسوائ بہت
    حالی

    دیکھا کئے وہ مست نگاہوں سے بار بار
    جب تک شراب آئے کئ دور ہو گئے
    شاد عظیم آبادی

    خلاف شرع کبھی شیخ تھوکتا بھی نہیں
    مگر اندھیرے اجالے میں چوکتا بھی نہیں
    اکبر الہ آبادی

    دیکھ آءو مریض فرقت کو
    رسم دنیا بھی ہے، ثواب بھی ہے
    حسن بریلوی

    تمہیں چاہوں، تمہارے چاہنے والوں کو بھی چاہوں
    مرا دل پھیر دو، مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا
    مضطر خیر آبادی
    افسوس، بے شمار سخن ہائے گفتنی
    خوف فساد خلق سے نا گفتہ رہ گئے
    آزاد انصاری

    توڑ کر عہد کرم نا آشنا ہو جائیے
    بندہ پرور جائیے، اچھا ، خفا ہو جائیے
    حسرت موہانی

    یہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں
    یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری
    اقبال

    اقبال بڑا اپدیشک ہے ، من باتوں میں موہ لیتا ہے
    گفتار کا یہ غازی تو بنا، کردار کا غازی بن نہ سکا
    اقبال

    کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موج دریا کا حریف
    ورنہ میں بھی جانتا ہوں کہ عافیت ساحل میں ہے
    وحشت کلکتوی

    اپنے مرکز کی طرف مائل پرواز تھا حسن
    بھولتا ہی نہیں عالم تیری انگڑائ کا
    عزیز لکھنوی

    بڑی احتیاط طلب ہے وہ ۔جو شراب ساغر دل میں ہے
    جو چھلک گئ تو چھلک گئ، جو بھری رہی تو بھری رہی
    بینظیر شاہ

    دیکھ کر ہر درو دیوار کو حیراں ہونا
    وہ میرا پہلے پہل داخل زنداں ہونا
    عزیز لکھنوی

    چتونوں سے ملتا ہے کچھ سراغ باطن کا
    چال سے تو کافر پہ سادگی برستی ہے
    یگانہ چنگیزی

    وہ آئے بزم میں اتنا تو برق نے دیکھا
    پھر اسکے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
    مہاراج بہادر برق

    ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئ
    اب تو آجا اب تو خلوت ہو گئ
    عزیز الحسن مجذوب

    اب یاد رفتگاں کی بھی ہمت نہیں رہی
    یاروں نے کتنی دور بسائ ہیں بستیاں
    فراق گو رکھپوری

    داور حشر میرا نامہ ء اعمال نہ دیکھ
    اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں
    محمد دین تاثیر

    امید وصل نے دھوکے دئیے ہیں اس قدر حسرت
    کہ اس کافر کی ‘ہاں’ بھی اب ‘نہیں’ معلوم ہوتی ہے
    چراغ حسن حسرت

    اعتراف اپنی خطاءووں کا میں کرتا ہی چلوں
    جانے کس کس کو ملے میری سزا میرے بعد
    کرار نوری

    وہ لوگ جن سے تری بزم میں تھے ہنگامے
    گئے تو کیاتری بزم خیال سے بھی گئے
    عزیز حامد مدنی

    ایک محبت کافی ہے
    باقی عمر اضافی ہے
    محبوب خزاں

    مری نمازہ جنازہ پڑھی ہے غیروں نے
    مرے تھےجن کے لئے، وہ رہے وضو کرتے
    آتش

    ایسی ضد کا کیا ٹھکانا، اپنا مذہب چھوڑ کر
    میں ہوا کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا

    محبت میں لٹتے ہیں دین اور ایماں
    بڑا تیر مارا جوانی لٹا دی

    پاپوش میں لگائ کرن آفتاب کی
    جو بات کی، خدا کی قسم لاجواب کی

 

 

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s