عشق کا غوطہ

محبت ایک ایسی آگ ہے جو انسان کو بھسم کر دیتی ہے اور میں اس کا چشمدید گواہ ہوں – وہ انسان کسقدر خوشنصیب ہے جس کو الله نے ایک محبت کرنے والا دل عطا فرمایا، ایسا دل جو محبت وصول بھی کر سکتا ہو، یہی اصل حقیقت ہے …کیی لوگ پیار کرتے ہیں تو ایسے کے جیسے یکطرفہ ٹریفک ہو، یعنی یا عاشق ہوتے ہیں یا محبوب … مگر میں نے خوشنصیب اسے کہا جو پیار کرتا بھی ہو، اور پیار وصول کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو، دو طرفہ ٹریفک ہو جذبات کی ، تب اس جذبے کی تمام خوبصورتی  سامنے آتی ہے— سچی و حقیقی محبت کسی کو چاہنے میں نہیں ہے، بلکے چاہے جانے میں ہے — چاہنا اور چاہے جانا نہ ہوں تو محض ایک مشینی کاروبار رہ جاتا ہے پیار ؛ اک ڈھونگ بن جاتا ہے ….

یہ باتیں کاغذی نہیں، بلکے تجربے کی آنچ پر سلگی ہیں، میں نے انھیں پرکھا ہے … جیسے کیا یہ ممکن ہے کے صرف کسی شخص کی ایک جھلک دیکھ کر آپ کو سکون ملتا ہو؟ مجھے یاد آ رہا ہے ایک ایسا وقت ، کوئی پانچ سال پہلے، جب میں اسی کیفیت سے گزرا تھا، سوچتا تھا، بھلا یہ کیا تک ہوئی؟ نہ تو اس سے بات ہوئی؟ نہ کچھ اور؟ صرف دیکھنے سے موڈ اچھا کیسے ہو سکتا ہے؟ ایک جھلک،.محض ایک معمولی سی جھلک … اب اسی شخص سے بات کرو، تو ایک الگ کیف…اس کے ساتھ وقت گزرتا چلا جایے، پر لگا کر اڑتا چلا جایے ، اس کی پریشانی میں پریشان، اور خوشی  میں خوش …تو یہ سب کیا ہے؟ ساری دنیا اور اس ایک شخص  میں کچھ تو فرق ہے، وہ فرق کیا ہے ؟ ہمارا دل توحید کا قایل ہے، اک بار کسی کو بساتا ہے ، پھر عمر بھراسی کا ہو جاتا ہے ، انسان زبردستی چاہے اور کتنے نام بسایے مگر دل ان سے سمجھوتہ کرتا ہے، مگر ایک عجیب طریقے سے دھڑکتا صرف اس کے لیے ہے جس کو یہ خود میں بسا لیتا ہے —

-سمجھوتے اور عشق میں یہی فرق ہے ، سمجھوتہ ہم کرتے ہیں، دماغ سے کرتے ہیں، کسی وجہہ سے کرتے ہیں، سوچ سمجھ کر کرتے ہیں ….اور عشق دل کرتا ہے، بے اختیار بنا سوچے سمجھے کرتا ہے، بے لوث کرتا ہے، اور عشق میں واپسی نہیں ہوتی-

اگر کوئی ہمیں، ہم سے بڑھ کر چاہے تو اس کا سرور و کیف ناقابل بیان ہے، مرے لیے یہ تمام جذبے صرف جذبے نہیں ہیں، سچی حقیقتیں ہیں ، تو محبت تبھی ہوتی ہے، جب آپ کسی کو چاہیں اور وہ آپ کو اس سے بھی بڑھ کر چاہے …کم از کم آپ جتنا تو چاہے ، محبت  ماپنے کا کوئی آلہ نہیں، مگر جیسے کسی انسان کو دو چہرے کبھی نہیں بھولتے، ایک دل میں بسنے والا اور دوسرا دل توڑنے والا … اسی طرح بلکل اسی زمرے میں محبت بھی ماپی جا سکتی ہے، جو آپ کے دل میں بسے وہ آپ  سے محبت کرتا ہے، اور ظاہر ہے جو دل توڑے وہ آپ  سے نفرت ! بڑی سادہ سی بات ہے، رہا یہ عذر کے ہم نے فلاں وجہہ ، یا فلاں بہتری کے لیے آپ  کو تکلیف پہنچائی ، اور دل توڑا تو یہ سب بکواس ہے، لغو اور فضول بہانے ہیں، جو آپ  سے محبت کرتا ہو وہ کبھی آپ  کو دانستہ تکلیف پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکے گا، کبھی دل نہیں توڑے گا، ہاں حالات یار کوئی اور عوامل اگر اس میں دخل اندازی کریں تو وہ اور بات ہے ، مگر ایسے کسی شخص پر کیا اعتبار کرنا، جو دل بھی توڑے اور محبت کا یقین بھی دلایے-

عشق کا درجہ محبت سے ایک جہاں اوپر ہے، جیسے کوئی شخص کسی  دوسرے کو مارنے کے لیے نیزہ اس طرح گھومپے، کے وہ پہلے خود میں نیزہ مارے جو اس میں سے ہوتا ہوا دوسرے کو جا لگے…تو عشق اسی طرح خود کو نیزہ گھومپنے کا نام ہے، اور دونوں کی موت یقینی ہے ! سب سے اچھا دل ، پیار کرنے والا دل ہے – سب سے بہترین دل، پیارکرنے اور وصول کرنے والا دل ہے – سب سے بدتر دل وہ ہے، جو کسی کے پیار کو ٹھکرا دے، اور سب سے بدترین دل وہ ہے جو کسی کے دل کو توڑ دے ، تو دل توڑنا ایک جرم ہے ، عام زندگی کے قانون میں تو اس کی کوئی سزا نہیں، مگر محبت کا قانون میں اس کی سزا ” وہ

تڑپ ” ہے، جو دل توڑنے والے کو خود کبھی نہ کبھی سہنی پڑھتی ہے – یہ نظام دنیا ہے، ایسے ہی چلتا ہے، اور چلتا آیا ہے –

عشق کی دنیا میں غوطے کھا کر جو مطالب و خیالات آشکار ہوتے ہیں، وہ تحیر و اسرار میں لپٹے ہیں، گرہ در گرہ جنھیں

کھولنے میں مدتیں صرف ہو جاییں … مگر کوشش کرنا تو انسان کے اختیار میں ہے، تو ایک غوطہ اور سہی

 

 

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s