جو کھولوں سینہء مجروح تو نمک چھڑکے
جراحت اُس کو دکھانے کا کچھ مزا بھی ہے

متصل روتے رہیے تو بجھے آتش دل
ایک دو اشک تو اور آگ لگا دیتے ہیں

انجامِ دلِ غم کش، کوئی عشق میں کیا جانے
کیا جانیے کیا ہوگا آخر کو، خدا جانے

ناصح کو خبر کیا ہے لذت سے غمِ دل کی
ہے حق بہ طرف اُس کے، چکھے تو مزا جانے

بے طاقتیِ دل نے ہم کو نہ کیا رسوا
ہے عشق سزا اُس کو جو کوئی چھپا نے

اُس مرتبہ ناسازی نبھتی ہے دِلا کوئی
کچھ خُلق بھی پیدا کر، تا خلق بھلا جانے

لے جائے یہ میر اُس کے دروازے کی مٹی بھی
اُس درد محبت کی جو کوئی دوا جانے

 

 

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s