میر تقی میرجب لکھنئو پہنچے تو لکھنئو میں ان کا والہانہ استقبال ہوا، کیوں کہ ان کی آمد سے قبل وہاں ان کی شہرت پہنچ چکی تھی۔ دوسری بات یہ تھی کہ وہ نواب آصف الدولہ کی دعوت پر وہاں تشریف لائے تھے۔ ان کی آمد کے بارے میں محمد حسین آزاد اپنی شہرہ آفاق کتاب ” آب حیات“ میں لکھتے ہیں:

”لکھنئو پہنچ کر جیسا کے مسافروں کا دستو رہے ایک سرا میں اترے۔ معلوم ہوا کہ آج یہاں ایک جگہ مشاعرہ ہے،رہ نہ سکے۔ اسی وقت غزل لکھی اور مشاعرے میں جا کر شامل ہو گئے۔ ان کی وضع قدیمانہ۔۔۔ کھڑکی دار پگڑی،پچاس گز کے گھیر کا پائجامہ،ایک پورا تھان پستولیے کا کمر سے بندھا ایک رومال،پٹری دار تہہ کیا ہوااس میں آویزاں مشروع کا پائجامہ جس کے عرض کے پائنچہ، ناک ہنی کی انی دار جوتی،جس کی ڈیڑھ بالش اونچی نوک،کمر میں ایک طرف سیف یعنی سیدھی تلوار، دوسری طرف کٹار، ہاتھ میں جریب، غرض جب داخلہ محفل ہوئے تو وہ شہر لکھنئو کے نئے انداز، نئی تراشیں،بانکے ٹیڑھے جمع انہیں دیکھ کر سب ہنسنے لگے اور میر صاحب مخاطب ہوئے:

کیا بود وباش پوچھو ہو پورب کے ساکنو

مجھ کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے

دلی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب
رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے

اس کو فلک نے لوٹ کے برباد کر دیا
ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے

 

 

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s