مولوی عبدالحق فرماتے ہیں کہ
” میر تقی میر سرتاج شعرائے اردو ہیں ان کا کلام اسی ذوق و شوق سے پڑھا جائے گا جیسے سعدی کا کلام فارسی میں، اگر دنیا کے ایسے شاعروں کی ایک فہرست تیار کی جائے جن کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا تو میر کا نام اس فہرست میںضرور داخل ہوگا۔“
بقول رشیداحمد صدیقی، ” غزل شاعری کی آبرو ہے اور میر غزل کے بادشاہ ہیں۔“
ایک اور جگہ لکھتے ہیں،
”میر کی بات دل سے نکلتی ہے اور سامع کے دل میں جگہ کر لیتی ہے۔“

اک بات کہیں گے انشاءتمہیں ریختہ کہتے عمر ہوئی
تم لاکھ جہان کا علم پڑھے کوئی میرسا شعر کہا تم نے

 

 

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s