View Full Version : لفظِ “عشق“ پر شعر کہیں

صفحات : [1] 2
عبدالجبار
17-11-2006, 18:06:31
یہاں ایک نیا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے۔ یہاں آپ ایسے اشعار دیں گے جس میں لفظِ عشق استعمال ہو۔

پہلا شعر حاضر ہے۔

ہم عشق میں یوں بے باک ہوئے، سو بار گریباں چاک ہوئے
اب راہِ طلب میں خاک ہوئے، اس خاک کو تو برباد نہ کر

واصف حسین
18-11-2006, 15:41:53
پختہ ہوتی ہے اگر مصلحت اندیش ہو عقل
عشق ہو مصلحت اندیش تو ہے خام ابھی

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی

عبدالجبار
18-11-2006, 16:02:40
تِرے عشق کی انتہا چانتا ہوں
مِری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی
بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں
شامی
18-11-2006, 18:35:01
یہ عشق نہیں آسان بس اتنا سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہو اور ڈوب کے جانا ہے
عبدالجبار
18-11-2006, 19:26:50
کی محبت تو سیاست کا چلن چھوڑ دیا
ہم اگر عشق نہ کرتے تو حکومت کرتے
واصف حسین
20-11-2006, 13:13:05
وفا کیسی کہاں کا عشق گر سر پھوڑنا ٹھہرا
تو پھر اے سنگدل تیرا ہی سنگ آستاں کیوں ہو
عبدالجبار
20-11-2006, 15:34:06
آنکھ ہو عشق سے روشن یہی بینائی ہے
چشمِ یعقوب کو تھے یوسفِ کنعاں کافی
نادیہ خان
21-11-2006, 23:31:10
مکتبِ عشق کا دستور نرالا دیکھا
اسے چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا
عبدالجبار
22-11-2006, 12:37:39
عشق ہے عشق ، نصیر اُن سے شکایت کیسی
وہ جو تڑپانے پہ آمادہ ہیں ، تڑپانے دے
لاحاصل
08-12-2006, 13:07:57
ابھی تو عشق میں ایسا بھی حال ہونا ہے
کہ اشک روکنا تم سے محال ہونا ہے
نعیم
09-12-2006, 08:40:46
اس عشق نے بھی ہم پہ کیا کیا ستم کیے
ناکردہ جرم آپ کی خاطر بھی سر لیے
عبدالجبار
09-12-2006, 12:06:42
عشق کو شرک کی حد تک نہ بڑھا
یوں نہ مل مجھ سے خُدا ہو جیسے
نعیم
10-12-2006, 00:27:09
عظمتِ زندگی کو بیچ دیا
ہم نے اپنی خوشی کو بیچ دیا

لب و رخسار کے عوض ہم نے
سطوتِ خسروی کو بیچ دیا

عشق بہروپیا ہے اے ساغر
آپ نے سادگی کو بیچ دیا ؟

(ساغر صدیقی)

عبدالجبار
10-12-2006, 16:21:33
مجھے حُسن نے ستایا مجھے عشق نے مٹایا
کسی اور کی یہ حالت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی

تِرے دَر سے بھی نبھاہے ، دَرِ غیر کو بھی چاہے
مِرے سَر کو یہ اجازت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی

نعیم
13-12-2006, 10:30:12
غمِ عاشقی سے پہلے مجھے کون جانتا تھا
تیرے عشق نے بنا دی میری زندگی فسانہ
عبدالجبار
13-12-2006, 17:33:30
نہ عشق میں رہیں گرمیاں، نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں
نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں
سعدیہ
13-12-2006, 17:53:13
داغ فراق، زخم وفا، اشک خوں فشاں
روز ازل سے ہیں یہی جاگیریں عشق کی
عبدالجبار
13-12-2006, 18:31:46
ذرا سا عشق کا بھی اس میں دخل ہے ورنہ
کوئی حسین ، مکمل حسیں نہیں ہوتا
نعیم
14-12-2006, 05:44:20
نہ پوچھو عشق میں کیسا لگے ہے
کہیں اُن کے سوا دل نہ لگے ہے
ع س ق
14-12-2006, 09:32:54
عشق اول، عشق آخر، عشق کل
عشق شاخ و عشق نخل و عشق گل
نعیم
14-12-2006, 09:38:38
عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام
اس جہانِ رنگ و بو کو بے کراں سمجھا تھا میں
عبدالجبار
14-12-2006, 12:57:52
منزلِ عشق تھی کٹھن ایسی، کوئی بھی میرا ہمسفر نہ ہُوا
جس طرف انتظار میں ہم تھے، اُس طرف آپ کا گزر نہ ہُوا
نعیم
14-12-2006, 13:33:44
میرا عشق میرا جنوں ہے یہ
تجھے کیا خبر کہ کیوں‌ہے یہ
ھارون رشید
14-12-2006, 14:00:52
عشق کی چوٹ تو پڑتی ہے دلوں پہ یکساں
ظرف کے فرق سے آواز بدل جاتی ہے
عبدالجبار
15-12-2006, 15:36:56
احساسِ برتری میں گرفتار ہو گئے
ہم سے ملے تو لوگ بھی فنکار ہو گئے

اس نے جو عشق لازم و ملزوم کر دیا
لمحاتِ وصل اور بھی دشوار ہو گئے

نعیم
17-12-2006, 11:35:05
تیرے عشق کی بدولت مجھے زندگی ملی ہے
میں کبھی کا مر گیا تھا جو طلب تری نہ ہوتی
عبدالجبار
17-12-2006, 21:57:47
ایک ایسی بھی گھڑی عشق میں آئی تھی کہ ہم
خاک کو ہاتھ لگاتے تو ستارہ کرتے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
نعیم
18-12-2006, 04:01:46
عشق اور صبر بے شک لازم و ملزوم ہیں
سفر یہ تیرا نہیں جو صبر کا یارا نہ ہو
واصف حسین
18-12-2006, 11:56:48
عمر ساری تو کٹی عشق بتاں میں‌مومن
آخری وقت میں‌کیا خاک مسلماں ہوں گے
نعیم
20-12-2006, 08:37:51
مجھے عشق ہے تمہی سے میری جان زندگانی
تیرے پاس میرا دل ہے میرے پیار کی نشانی
عبدالجبار
20-12-2006, 16:56:34
دیارِ عشق میں دامن جو چاک ہو جائے
یہ اِبتدائے جنوں ہے ، کبھی رفو نہ کرو
نعیم
21-12-2006, 06:01:31
زندگی اپنی بے کیف و ویراں گذر جاتی
اچھا ہواجوعشق نے لذتِ آگہی دے دی
عبدالجبار
27-12-2006, 14:13:28
جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ
آپ نے دیکھے نہ ہوں شاید ، مگر ایسے بھی ہیں
فیصل سادات
27-12-2006, 18:08:09
یہ عشق کی منزل ہے قدم سوچ کے رکھنا
دریائے محبت کے کنارے نہیں ہوتے !!
نعیم
27-12-2006, 20:01:29
گو سلامت محملِ شامی کی ہمراہی میں ہے
عشق کی لذت مگر خطروں کی جانکاہی میں ہے

(علامہ اقبال :ra: )

نعیم
27-12-2006, 20:16:23
عشق میں نہ رکھ کوئی غرض نہ طلب
عشق تو ہے بس راہِ وفا و صداقت
عبدالجبار
28-12-2006, 13:43:07
پلکوں پہ جُڑ گئے ہیں ستارے سے عشق میں
ہر ایک کے نصیب میں یہ اشکِ غم کہاں
فیصل سادات
28-12-2006, 15:03:25
مکتبِ عشق کا انداز نرالا دیکھا
اُس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا
عبدالجبار
28-12-2006, 15:52:45
یہ عشق بھی ہے کتنا انوکھا معاملہ
انکار کے بغیر نہ ، اقرار کے بغیر
نعیم
28-12-2006, 18:41:56
مکتبِ عشق کا انداز نرالا دیکھا
اُس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا

میرے خیال میں صحیح مصرعہ ہے۔

مکتبِ عشق کا دستور نرالا دیکھا

نعیم
28-12-2006, 19:01:30
عشق کہ جسکےدین میں صبروسکوں حرام ہے
اک نظر کا کام ہے، اک اثر کا نام ہے ۔۔۔۔۔۔
نادیہ خان
30-12-2006, 00:40:32
عشق، اور اس بتِ کافر کا، الہی!توبہ
نام بھی اس کا اگر لو، تو خدا سے پہلے
نعیم
30-12-2006, 03:40:45
مجھے عشق ہے تجھی سے میری جان زندگانی
تیرے پاس میرا دل ہے میرے پیار کی نشانی
عبدالجبار
30-12-2006, 14:29:10
کی محبت تو سیاست کا چلن چھوڑ دیا
ہم اگر عشق نہ کرتے تو حکومت کرتے
نعیم
31-12-2006, 06:24:48
عشق کو فریاد لازم تھی سو وہ بھی ہو چکی
اب ذرا دل تھام کر فریاد کی تاثیر دیکھ ۔۔۔
عبدالجبار
02-01-2007, 15:55:38
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائےِ لبِ بام ابھی
نعیم
02-01-2007, 18:48:48
رہا گردشوں میں ہردم میرے عشق کا ستارہ
کبھی ڈگمگائی کشتی کبھی کھو گیا کنارہ
عبدالجبار
11-01-2007, 13:14:31
ہوش والوں کو خبر کیا، بے خودی کیا چیز ہے
عشق کیجئے پھر سمجھیئے، زندگی کیا چیز ہے
نعیم
12-01-2007, 07:34:57
توڑ دے ہراک آس کی ڈوری ، آسوں میں‌کیا رکھا ہے؟
عشق محبت سب باتیں‌ہیں، ان باتوں میں‌کیا رکھا ہے؟
عبدالجبار
02-02-2007, 17:41:30
ذرا سا عشق کا بھی اس میں دخل ہے ورنہ
کوئی حسین مکمل حسیں نہیں ہوتا
نعیم
02-02-2007, 21:22:17
عشق اول، عشق آخر، عشق کُل
عشق برگ و عشق نخل و عشق گُل
عبدالجبار
20-02-2007, 15:07:05
محبت ناز ہے یہ ناز کب ہر دل سے اُٹھتا ہے
یہ وہ سنگِ گراں ہے جو بڑی مشکل سے اُٹھتا ہے

لگی ہے عشق کی، شعلہ کوئی مشکل سے اُٹھتا ہے
جلن رہتی ہے ہے آنکھوں میں، دھواں سا دل سے اُٹھتا ہے

نعیم
20-02-2007, 17:10:11
کوئی اہلِ دل ہو تو سمجھے
عشق توفیق ہے گناہ نہیں ہے
عبدالجبار
26-02-2007, 18:57:50
سخت کافر تھا جس نے پہلے میر
مذہبِ عشق اختیار کِیا
نعیم
26-02-2007, 20:11:53
اوروں کا ہے پیام اور میرا پیام اور ہے
عشق کے دردمند کا طرزِ کلام اور ہے
عبدالجبار
02-03-2007, 12:37:47
نہ وہ عشق میں ہیں گرمیاں، نہ وہ حُسن میں ہیں شوخیاں
نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی ، نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں
ھارون رشید
10-03-2007, 19:04:20
عشق جسے سنتے تھے وہ یہی ہے شاید
اک شخص خود بخود ہے دل میں سمایا جاتا
نعیم
10-03-2007, 19:43:25
عشق ہمارے خیال پڑا ہے ، خواب گیا آرام گیا
جی کا جانا ٹھہر گیا ہے صبح گیا یا شام گیا
عبدالجبار
29-04-2007, 12:52:31
دل میں دلبر کی ذات کو رکھنا
ذرّے میں کائنات کو رکھنا

عشق کی ہر گھڑی عبادت ہے
سامنے اُن کی ذات کو رکھنا

نعیم
29-04-2007, 20:49:00
آتشِ عشق جی جلاتی ہے
یہ بلا جان ہی پہ آتی ہے
ٹک خبر لے کہ ہرگھڑی ہمکو
اب جدائی بہت ستاتی ہے

(میر درد)

مسز مرزا
01-05-2007, 09:15:29
انتہا عشق کی کوئی نہ ہوس کی کوئی
دیکھنا یہ ہے کہ حد کون ، کہاں کھینچتا ہے

احمد فراز

نعیم
01-05-2007, 18:53:44
اس عشق میں جاں کو کھونا ہے، ماتم کرنا ہے رونا ہے
میں جانتا ہوں کیا ہونا ہے پر کیاکروں جب دل آ جائے

(بہزاد لکھنوی)

عبدالجبار
08-05-2007, 11:53:58
شرما گئے، گھبرا گئے، آنکھیں چُرا گئے
اے عشق! مرحبا وہ یہاں تک تو آگئے
نعیم
08-05-2007, 21:19:46
عشق ہمارے خیال پڑا ہے خواب گیا آرام گیا
جی کا جانا ٹھہر گیا ہے صبح گیا یا شام گیا

(میر)

مسز مرزا
09-05-2007, 01:37:22
ہم نے سبھی کو عشق میں بد ظن بنا لیا
تھا دل جو دوست اس کو بھی دشمن بنا لیا

بہادر شاہ ظفر

نعیم
09-05-2007, 09:15:10
نہ پوچھو عشق میں کیسا لگے ہے
بھری محفل میں بھی دل نہ لگے ہے
اے دنیا !! رونقیں تجھ کو مبارک
۔۔ تیرا ہر رنگ ویرانہ لگے ہے ۔۔

(نعیم رضا)

مسز مرزا
09-05-2007, 20:32:57
میڈا عشق وی توں میڈا یار وی توں
میڈا دین وی توں ایمان وی توں
میڈا جسم وی توں میڈا روح وی توں
میڈا قلب وی توں جند جان وی توں
میڈا ذکر وی توں میڈا فکر وی توں
میڈا ذوق وی توں وجدان وی توں

خواجہ غلام فرید

نعیم
10-05-2007, 06:22:23
عشق گیا سو دین گیا ، ایمان گیا ایقان گیا
دل نے ایسا کام کیا جس میں سب ناکام گیا

(میر)

عبدالجبار
10-05-2007, 14:34:57
دیارِ عشق میں دامن جو چاک ہو جائے
یہ ابتدائےِ جنوں ہے ابھی رفوو نہ کرو
نعیم
11-05-2007, 06:04:41
گر کیا ناصح نے ہم کو قید، اچھا، یوں‌ سہی
یہ جنونِ عشق کے انداز چُھٹ جائیں گے کیا ؟

(غالب)

مسز مرزا
11-05-2007, 08:42:44
اشکوں سے اپنے دل کی حکائت دامن پر ارقام کرو
عشق میں جب یہی کام ہے یارو لے کے خدا کا نام کرو

ابن انشاء

عبدالجبار
11-05-2007, 12:03:10
اس دور میں ہم جیسے غمِ عشق کے مارے
زندہ ہیں یہی بات بڑی بات ہے پیارے
نعیم
11-05-2007, 12:27:29
عشق چاہے کہ ابھی اور بگولے اٹھیں
وسعتِ دشت میری آبلہ پائی مانگے

(بشیر منذر)

مسز مرزا
12-05-2007, 21:36:06
الٰہی عشق دے اس کا مدینے کا جو سلطاں ہے
محمد :saw: نام ہے تاج رسل ہے شاہ شاہاں ہے

شاعر۔ معلوم نہیں

نعیم
13-05-2007, 05:26:59
عشق و محبت ، وفا جفا سب ہی تو افسانے ہیں
مجنوں لیلیٰ، رانجھا ہیر، قصے سب پرانے ہیں

(نعیم رضا)

مسز مرزا
13-05-2007, 12:39:04
دو سوزِ بلال آقا ملے درد رضا سا
سرکار عطا عشقِ اویسِ قرنی ہو
نعیم
14-05-2007, 07:22:15
تم نے بھی میرے ساتھ اٹھائے ہیں دکھ بہت
خوش ہوں کہ روگِ عشق تنہا نہیں ہوں میں
مسز مرزا
21-05-2007, 19:49:06
عشق وہ کارِ مسلسل ہے کہ ہم اپنے لیئے
ایک لمحہ بھی پس انداز نہیں کر سکتے
نعیم
23-05-2007, 22:14:50
عشق میں سارا وقت ‌ناس ہو گیا
ہم فیل ہو گئے اور وہ پاس ہو گیا

(رضا)

عبدالجبار
26-05-2007, 11:50:01
ذرا سا عشق کا بھی اس میں دخل ہے ورنہ
کوئی حسین مکمل حسیں نہیں ‌ہوتا
نعیم
29-05-2007, 05:08:41
مقتلِ‌جاں کی ضرورت ٹھہرے
ہم کہ شایانِ محبت ٹھہرے
عشق میں منزلِ آرام بھی تھی
ہم سرِ کوچہء وحشت ٹھہرے
مسز مرزا
05-06-2007, 08:54:28
منصور کو ہوا لب گویا پیام موت
اب کیا کسی کے عشق کا دعویٰ کرے کوئی

علامہ اقبال

نعیم
05-06-2007, 12:51:19
منزلِ عشق میں تم کو خدا سمجھ بیٹھے
غلامی ہی کیا بندگی کی ہے ہم نے تری
سجیلا
05-06-2007, 15:54:25
ہزار طرح کے روگ اس کے ساتھ آتے ہیں

یہ عشق بے سرو سامان تھوڑی ہوتا ہے

نعیم
05-06-2007, 19:36:06
نہ رہا جنونِ وفا، یہ رسم، یہ دار کرو گے کیا
جنھیں جرمِ عشق پہ ناز تھا وہ گنہگار چلے گئے

(فیض)

مسز مرزا
07-06-2007, 02:17:13
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
نعیم
07-06-2007, 05:10:46
میں خود پہ ہنس رہا تھا زمانے کے ساتھ ساتھ
وہ مرحلہ بھی عشق میں کس حوصلے کا تھا !
سن کر ہماری بات یہ کیا حال کر لیا ؟؟؟
تم رو پڑے ؟ یہ وقت دعا مانگنے کا تھا
مسز مرزا
08-06-2007, 17:24:27
دمِ حساب رہا روز حشر بھی یہی ذکر
ہمارے عشق کا چرچا کہاں کہاں نہ ہوا

مومن خان مومن

نعیم
08-06-2007, 20:51:05
اب اس جوشِ آگہی میں آگے کی کیا سوچی ہے ؟
شعر کہوگے، عشق کروگے، کیاکیاڈھونگ رچاؤگے

(جمیل الدین عالی)

مسز مرزا
11-06-2007, 21:38:36
کتاب عشق کہاں تک سناؤں گا اس کو
میں کوئی اور نیا دکھ بتاؤں گا اس کو

(قمر رضا شہزاد)

نعیم
13-06-2007, 10:40:02
نہ پوچھو عشق میں کیسا لگے ہے
بھری محفل میں بھی دل نہ لگے ہے
میرے دل میں وہ جب سے آبسے ہیں
یہ عکسِ گنبدِ خضریٰ لگے ہے

(رضا)

مسز مرزا
13-06-2007, 23:39:06
اسبابِ غمِ عشق بہم کرتے رہیں گے
ویرانیء دوراں پہ کرم کرتے رہیں گے
نعیم
17-06-2007, 08:40:22
عشق فنا کا نام ہے، عشق میں زندگی نہ دیکھ
جلوہء آفتاب بن، ذرّے میں روشنی نہ دیکھ
مسز مرزا
18-06-2007, 19:54:12
کچھ اس قدر بھی تو آساں نہیں عشق تیرا
یہ زہر دل میں اتر کر ہی راس آتا ہے

محسن نقوی

نعیم
18-06-2007, 20:33:15
ہم کشتگانِ عشق ہیں ابروِ چشمِ یار
سر سے ہمارے تیغ کا سایہ نہ جائے گا

(میر)

مسز مرزا
25-06-2007, 12:54:27
عشق ایسا عجیب دریا ہے
جو بنا ساحلوں کے بہتا ہے

امجد اسلام امجد

عبدالجبار
26-06-2007, 14:19:41
شہرِ فراق تجھ میں گُھٹن ہے تو کیا ہُوا
ہم عشق زاد آب و ہوا دیکھتے نہیں
برادر
29-06-2007, 10:55:52
عشق ایک سچ تھا جو تجھ سے بولا نہیں‌ کبھی
عشق اب وہ جھوٹ ہے جو بہت بولتا ہوں میں
نعیم
02-07-2007, 06:14:57
اس شہرِ خرابی میں ، غمِ عشق کے مارے
زندہ ہیں، یہ بات بڑی بات ہے پیارے
مسز مرزا
02-07-2007, 14:05:36
دی عشق نے حرارت سوز دروں تجھے
اور گل فروش اشک شفق گوں کیا مجھے

علامہ اقبال

نعیم
17-07-2007, 14:56:15
کس سے کہیں اے جان کہ یہ قصہ عجیب ہے
کہنے کہ یوں تو عشق کا جادو ہے میرے پاس
عبدالجبار
18-07-2007, 21:05:05
اس نے جو عشق لازم و ملزوم کر دیا
لمحاتِ وصل اور بھی دُشوار ہو گئے
صارم مغل
22-07-2007, 10:37:38
عشق نے غالب نکما کر دیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
نعیم
25-07-2007, 16:24:01
کہتے ہیں عشق نام کے گذرے تھے اک بزرگ
ہم لوگ بھی مرید اسی سلسلے کے ہیں
صارم مغل
26-07-2007, 13:19:59
تھا مُوجدِ عشق بھی قیامت کوئی
لڑکوں کے لئے گیا ہے کیا کھیل نکال !
نعیم
27-07-2007, 06:49:53
بُھلا دو عشق کو میرے مگر کہیں تم سے
زمانہ میری تباہی کا انتقام نہ لے ۔۔۔۔۔ !
صارم مغل
27-07-2007, 20:19:41
عشق کے ہاتھ سے نہ قیس نہ فرہاد بچا
اس کو گر دشت میں تو اس کو جبل میں مارا
نعیم
12-08-2007, 08:07:07
عشق میں دیدہ و دل، شیشہ و پیمانہ بنا
جھوم کر بیٹھے جہاں ہم وہیں مہ خانہ بنا
مسز مرزا
08-09-2007, 09:16:24
خدا کے نام پہ کیا تم سے التجا کرتے
ذرا سے عشق میں گھبرا کے کیا دعا کرتے

ڈاکٹر سید بسمل

نعیم
08-09-2007, 09:20:06
یہ نشان عشق ہیں، جاتے نہیں
داغ چھاتی کے عبث دھوتا ہے کیا
صارم مغل
09-09-2007, 14:59:18
میدانِ وفا دربار نہیں یاں‌ نام و نسب کی پوچھ کہاں
عاشق تو کسی کا نام نہیں، کچھ عشق کسی کی ذات نہیں
برادر
22-09-2007, 06:52:42
ہم آس بھی رکھتے ہیں تو ڈرتے ہیں قسم سے
یہ عشق ہے جو مرکے بھی جینے نہیں‌دیتا
واصف حسین
22-09-2007, 14:05:48
اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی
نہ ہو تو مرد مسلماں بھی کافر و زندیق
نعیم
25-09-2007, 03:39:57
ہر حسن کی جفا میں، ہر عشق کی وفا میں
مخفی ہے ذات تیری، ربِّ کریم میرے

حسین محی الدین قادری

زاہرا
29-10-2007, 05:36:13
پڑو نہ عشق میں خورشید ہم نہ کہتے تھے
تمہیں بتاوء کہ جی کا زیاں ہوا کہ نہیں
نعیم
02-11-2007, 01:55:09
آجکل ہوتا ہے سوزِ عشق سے جل جل کے خاک
کھیلتی ہے شمع ساں سر پہ تیرے اے دل ! قضا

(آتش)

مسز مرزا
02-11-2007, 07:52:52
عرض نياز عشق کے قابل نہيں رہا
جس دل پہ ناز تھا مجھے، وہ دل نہيں رہا
نور
12-11-2007, 22:00:32
منصور کو ہوا لبِ گویا پیامِ موت
اب کیا کسی کے عشق کا دعویٰ کرے کوئی

اقبال :ra:

مسز مرزا
13-11-2007, 22:31:22
وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اس کا حال بتائیں کیا
کوئی مہر نہیں کوئی قہر نہیں پھر سچا شعر سنائیں کیا
نعیم
14-11-2007, 14:06:22
اک امتحان میں ہوں، دل کا باب کس کو دوں ؟
نصابِ عشق پہ لکھی کتاب کس کو دوں ؟؟
ھارون رشید
14-11-2007, 18:40:41
عشق جسے سنتے تھے وہ یہی ہے شاید
اک شخص خود بخود ہے دل میں سمایا جاتا
نعیم
15-11-2007, 13:31:19
تیری یاد کا زخم گہرا نہیں ہے
مگر سوچ پر کوئی پہرہ نہیں ہے
نہیں ہے ترا حُسن کوئی عدالت
میرا عشق کوئی کٹہرا نہیں ہے
نعیم
16-11-2007, 08:39:45
لٹاؤ جان تو بنتی ہے بات، کس نے کہا ؟
یہ بزمِ عشق میں رازِ حیات، کس نے کہا؟
مسز مرزا
22-11-2007, 04:53:00
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا

درد کی دوا پائی، درد بے دوا پایا

نعیم
22-11-2007, 10:19:34
سلامِ عشق میری جاں ذرا قبول کر لو
تم ہم سے پیار کرنے کی ذرا سی بھول کرلو
نعیم
28-11-2007, 11:22:36
جا اور کوئی ضبط کی دنیا تلاش کر
اے عشق ہم تو اب ترے قابل نہیں رہے
مسز مرزا
29-11-2007, 22:13:51
حاصلِ عشق ترا حُسنِ پشیماں ہی سہی
میری حسرت تری صورت سے نمایاں ہی سہی
نعیم
30-11-2007, 11:27:23
شمع بجھتی ہے تو اس سے دھواں اٹھتا ہے
شعلہء عشق سیاہ پوش ہوا میرے بعد
(غالب)
واصف حسین
30-11-2007, 11:39:58
گر کیا ناصح نے ہم کو قید اچھا یوں سہی
یہ جنون عشق کے انداز چھٹ جائیں گے کیا؟
عبدالجبار
01-12-2007, 21:36:09
سخت کافر تھا جس نے پہلے میر
مذہبِ عشق اختیار کِیا
نعیم
05-12-2007, 09:08:41
محبت کی اسیری سے رہائی مانگتے رہنا
بہت آساں نہیں ہوتا، جدائی مانگتے رہنا
ذرا سا عشق کر لینا، ذرا نم آنکھ کر لینا
اور اسکے بعد پھرساری خدائی مانگتے رہنا
عبدالجبار
16-12-2007, 20:50:38
ہوتی نہیں قبول دُعا ترکِ عشق کی
دل چاہتا نہ ہو تو زباں میں اثر کہاں
زاہرا
20-12-2007, 05:10:28
اس پرغلط ہے عشق میں الزامِ دشمنی
قاتل ہے میرے حجلہء جاں میں‌چھپاہوا
عبدالجبار
20-12-2007, 22:47:27
نہ عشق میں رہیں گرمیاں، نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں
نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں
نعیم
22-12-2007, 09:05:25
سخن شناس دوستوں کی خدمت میں ایک قیمتی شعر عرض ہے
عشق کا بت کدہ ویران نظر آتا ہے
ایک کافربھی نہیں بستی میں مسلمانوں کی

(ذوالفقار بخاری)

مجیب منصور
25-01-2008, 14:14:56
ع،ش،ق پر شعر ملاحظہ فرمائیے

عین کامنہ کھلاہے ایسا جیسے نانگن کا ناشتہ
شین کے تین نقطے روروکے کھتے ہیں۔عشق نہ کرنا تمھیں خدا کاواسطہ

اور جو قاف کی گولائی میں پھنس گیا ۔اسے ملتا نھیں باہرنکلنے کاراستہ

نعیم
26-01-2008, 06:28:59
حسن وعشق کی لاگ میں اکثرچھیڑادھرسےہوتی ہے
شمع کا جب لہرایا شعلہ، اڑ کے چلا پروانہ بھی
نعیم
27-01-2008, 09:47:27
عشق کا اپنے نہ یوں چرچا کرو
اپنی خاطر مت اُسے رُسوا کرو
کاشفی
27-01-2008, 13:52:05
عشق کی دنیا میں‌کیا کیا ہم کو سوغاتیں ملیں
سُونی صُبحیں، روتی شامیں جاگتی راتیں‌ملیں
نعیم
28-01-2008, 09:07:06
چاہت میں کیا دنیا داری، عشق میں کیسی مجبوری؟
لوگوں کا کیا سمجھانے دو، ان کی اپنی مجبوری ۔۔۔ !
عبدالجبار
29-01-2008, 12:32:00
ہوش والوں کو خبر کیا، بے خودی کیا چیز ہے
عِشق کیجئے پھر سمجھیئے، زندگی کیا چیز ہے
کاشفی
30-01-2008, 11:57:23
تو مرے عشق کو اِک جذبہء عامی سمجھے
میں ترے حُسن کو آفاق میں‌ یکتا دیکھوں
نعیم
31-01-2008, 06:37:47
اس شہر خرابی میں‌غمِ عشق کے مارے
زندہ ہیں ، یہی بات بڑی بات ہے پیارے
کاشفی
31-01-2008, 10:29:49
کس عشق کو اس معرکہء دل میں‌ہوئی جیت
اک چیز ہے لیکن یہ مری بے جگری بھی
عبدالجبار
31-01-2008, 11:54:30
دیارِ عشق میں دامن جو چاک ہو جائے
یہ ابتدائےِ جنوں ہے ابھی رفوو نہ کرو
نعیم
01-02-2008, 05:10:09
لٹاؤ جان تو بنتی ہے بات کس نے کہا ؟
یہ بزمِ عشق میں رازِ حیات کس نے کہا؟
عبدالجبار
04-09-2008, 16:16:41
قریب آ ، مگر اتنا بھی اب قریب نہ آ
کہ عشق ترکِ مراسم کے دُکھ اُٹھا نہ سکے
ھارون رشید
09-09-2008, 11:10:48
تم سے ملے بچھڑ گئے تم سے بچھڑ‌کر مل گئے
ایسی بھی قربتیں رہیں ایسے بھی فاصلے رہے
تو بھی ہمیں نہ مل سکا اور عمر بھی رائیگاں گئی
تم سے تو خیر عشق تھا خود سے بڑے گلے رہے
محمد علی
10-09-2008, 22:18:48
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
آزاد
12-09-2008, 12:19:42
عشق کی چوٹ تو پڑتی ہے دلوں پہ یکساں
ظرف کے فرق سے آواز بدل جاتی ہے
عبدالجبار
13-09-2008, 12:34:31
ایک ایسی بھی گھڑی عشق میں آئی تھی کہ ہم
خاک کو ہاتھ لگاتے تو ستارہ کرتے
مانوس اجنبی
13-09-2008, 13:17:02
[dropshadow=blue:3hmm75xz]بہت خوب[/dropshadow:3hmm75xz]
آزاد
15-09-2008, 12:46:32
عشق محبت باتیں ہیں سب،ان باتوں میں کیا رکھا ہے
چند لکیریں اُلجھی سی اور ہاتھوں میں کیا رکھا ہے
لاحاصل
15-09-2008, 12:56:30
دل میں دلبر کی ذات کو رکھنا
ذرے میں کائنات کو رکھنا

عشق کی ہر گھڑی عبادت ہے
سامنے ان کی ذات کو رکھنا

آزاد
15-09-2008, 13:04:32
وہ تو جاں لے کے بھی ویسا ہی سبک نام رہا
عشق کے باب میں سب جُرم ہمارے نکلے
عشق دریا ہے، جو تیرے وہ تہی دست رہے
وہ جو ڈوبے تھے، کسی اور کنارے نکلے
لاحاصل
15-09-2008, 13:18:26
ابھی تو عشق میں ایسا بھی حال ہونا ہے
کہ اشک روکنا تم سے محال ہونا ہے
آزاد
15-09-2008, 13:25:31
تِرے عشق کی انتہا چانتا ہوں
مِری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی
بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں
مانوس اجنبی
08-10-2008, 20:00:40
:hands: بہت خؤب
عاطف چوہدری
08-10-2008, 20:45:20
اسی عشق دی آگ لگا بیٹھے
لوکی تا یار لبدے پھردے اسی لبیاں یار گوا بیٹھے
خوشی
08-10-2008, 23:08:56
کچھ عشق تھا کچھ مجبوری تھی سو میں نے جیون وار دیا
میں کیسا زندہ آدمی تھا اک شخص نے مجھ کو مار دیا
نعیم
05-11-2008, 09:16:57
وہ عشق جس کی شمع بجھا دے اجل کی پھونک
اس میں مزا نہیں گویا تپش و انتظار کا
خوشی
05-11-2008, 16:13:36
کچھ عشق تھا کچھ مجبوری تھی سو میں نے جیون وار دیا
میں کیسا زندہ آدمی تھا اک شخص نے مجھ کو مار دیا
مبارز
05-11-2008, 18:06:30
عشق میں یوں بھی رہا ہے کوئی ناکام کہیں
رنج تک وہ ہمیں دیتے نہیں راحت کیسی
خوشی
06-11-2008, 01:29:05
میں جہاں گیا مجھے اہل دل نے گلے سے اپنے لگا لیا
مری آگ نے مرے عشق نے کہیں بے وقار نہیں کیا
نعیم
06-11-2008, 07:02:06
عشق میں یوں بھی رہا ہے کوئی ناکام کہیں
رنج تک وہ ہمیں دیتے نہیں راحت کیسی
واہ کاشفی بھائی ۔ بہت عمدہ شعر ہے۔
بہت ساری داد قبول فرمائیے۔ واہ واہ
خوشی
06-11-2008, 07:03:37
عشق کرے بے حال سہیلی
اس کے سو سو جال سہیلی
نعیم
06-11-2008, 07:03:51
چاہت میں کیا دنیا داری، عشق میں کیسی مجبوری
لوگوں کا کیا سمجھانے دو ، ان کی اپنی مجبوری
خوشی
06-11-2008, 07:05:50
تنہائی کو شعر بنایا
عشق نے کیا کمال سہیلی
نعیم
06-11-2008, 07:10:22
عظمتِ زندگی کو بیچ دیا
ہم نے اپنی خوشی کو بیچ دیا

لب و رخسار کے عوض ہم نے
سطوتِ خسروی کو بیچ دیا

عشق بہروپیا ہے اے ساغر
آپ نے سادگی کو بیچ دیا ؟

(ساغر صدیقی)

خوشی
07-11-2008, 04:35:01
یہ شاید عشق ہی ھے جو
زیاں تک ساتھ چلتا ھے
نعیم
08-11-2008, 07:15:30
یم بہ یم قطرہ بہ قطرہ کو بہ کو
پھر رہے ہیں عشق والے چارسو
خوشی
08-11-2008, 07:34:07
لوٹ ‌آتی ھے مری شب کی عبادت خالی
جانےکس عرش پہ رہتا ھے خدا شام کے بعد
نعیم
08-11-2008, 07:36:03
لوٹ ‌آتی ھے مری شب کی عبادت خالی
جانےکس عرش پہ رہتا ھے خدا شام کے بعد
عشق پر شعر دینا تھا :139:
خوشی
08-11-2008, 18:30:35
چلیں کوئی موقع تو ملا غلطی نکالنے کا

میری نگاہ شوق سے ہر گل ھے دیواتا
میں عشق کا خدا ھوں مجھے یاد کیجیے

نعیم
09-11-2008, 05:45:36
عشق کے مکتب میں ہو فرہاد سب سے تیزذہن
تین دن چاٹے اگر تعویز میری گور کا ۔۔۔۔۔ !!!

ذوق

خوشی
09-11-2008, 05:49:33
عشق نے ہم کو مار رکھا ھے جی میں‌اپنے تاب نہیں
دل کو خیال صبر نہیں آنکھوں کو میل خواب نہیں
نعیم
09-11-2008, 05:57:03
ذوق ، عشق وہ کوچہ ہے جسکی خاک میں
ہے درِتاجِ سلیماں بیضہ بیضہ ہور کا

ذوق

خوشی
09-11-2008, 06:24:08
عقل کی منزل ھے عیاری عشق کی منزل ھے ایثار
عقل سے عشق کی راہ جدا ھے اب مجھ کو معلوم ھوا
نعیم
09-11-2008, 06:31:18
عقل عیار ہے ، سو بھیس بدل لیتی ہے
عشق بےچارہ نہ زاہد، نہ ملا، نہ حکیم

اقبال :ra:

آزاد
09-11-2008, 16:05:15
یہ عشق کی منزل ہے قدم سوچ کے رکھنا
دریائے محبت کے کنارے نہیں ہوتے
مبارز
10-11-2008, 15:22:22
جفا جو عشق میں‌ ہوتی ہے وہ جفا ہی نہیں
ستم نہ ہو تو محبت میں کچھ مزہ ہی نہیں

جس کا امیں ازل سے ہو سینہء بلال :rda:
محکوم اس صدا کے ہیں شہنشاہ و فقیر
(علامہ ڈاکٹر محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ)

آزاد
11-11-2008, 08:04:22
وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اس کا حال بتائیں کیا
کوئی مہر نہیں کوئی قہر نہیں پھر سچا شعر سنائیں کیا
خوشی
13-11-2008, 05:04:08
یادگار عشق ایسی چھوڑ جاؤں گا سروش
حسن حیرانی سے مجھ کو دیکھتا رہ جائے گا
نعیم
13-11-2008, 11:33:07
عشق جسے سنتے تھے ، وہ یہی ہے شاید
اک شخص خود بخود دل میں ہے سمایا جاتا
خوشی
14-11-2008, 00:23:31
عشق کی انتہا نہیں‌ھوتی
عشق کی انتہا نہ ھو جانا
نعیم
14-11-2008, 11:36:37
عشق میں دنیا گنوائی ہے نہ جاں دی ہے فراز
پھر بھی ہم اہل محبت کی مثالوں میں رہے۔
مبارز
16-11-2008, 00:11:27
جنونِ عشق میں احساس اتنا تیز ہو جاتا
جو چھو جاتی ہوا، دل درد سے لبریز ہو جاتا

یہ ساری لذتیں ہیں میرے شوق نامکمل تک
قیامت تھی یہ پیمانہ اگر لبریز ہو جاتا

نہ رکھا دل کو احساسِ گنہہ نے مستقل ورنہ
یہی ظلمت کدہ اک دن تجلی خیز ہوجاتا
(از حضرت جگر مراد آبادی رحمتہ اللہ علیہ)

بجو
18-11-2008, 15:30:13
عشق نے نکما کر دیا غالب
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کمال کے
نعیم
21-11-2008, 10:52:20
راز الفت چھپا کے دیکھ لیا
دل بہت جلا کے دیکھ لیا
فیض تکمیل غم بھی ھو نہ سکی
عشق کو آزما کے دیکھ لیا
نعیم
08-12-2008, 10:32:04
چھوڑا نہیں غیروں نے کوئی ناوکِ دشنام
چھوٹی نہیں اپنوں سے کوئی طرزِ ملامت
اس عشق، نہ اُس عشق پہ نادم ہے مگر دل
ہر داغ ہے ، اس دل میں بجز داغِ ندامت
خوشی
12-12-2008, 04:16:10
وادی احساس میں
برف باری ھے ابھی
پہلے پہلے عشق کا
وار کاری ھے ابھی
نعیم
14-12-2008, 17:34:02
وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا
تو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنگِ آستاں کیوں ہو
خوشی
15-12-2008, 07:18:48
میں شروع سے ہی تھا راہ عشق پہ گامزن
تھی عجیب شان کی اختتام پہ ز ندگی
نعیم
16-12-2008, 18:23:34
نہ مذاق اڑا میری خستہ حالی کا
عشق ہے، اور کوئی بات نہیں
آزاد
17-12-2008, 10:26:02
ہم کہ ٹھرے اجنبی اتنی ملاقاتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی مداراتوں کے بعد
کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبُے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد
تھے بہت بے درد لمحے ختمِ دردِ عشق کے
تھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد
نعیم
17-12-2008, 21:10:04
یہ دن کے قہر ہوئے چشم و گوش کے حق میں
نوائے عشق ، صدائے جمال کون سنے
وسیم
21-01-2009, 19:37:16
سب کی اک اوقات ” عشق نہ پوچھے ذات”
بالکل بھول گئے کہ کرنی تھی کیا بات

امجد اسلام امجد

نعیم
22-01-2009, 09:13:27
خلوتوں کا امیں گھر کہاں رہ گیا
رہ گزر ہو گیا ، در کہاں رہ گیا
وہ دیا بجھ گیا جس سے روشن تھے ہم
اب وہ عشق اپنے اندر کہاں رہ گیا
نور
30-01-2009, 08:34:34
عشق کی موج میں اے دوست سمودو خود کو
اتنی گہرائی میں جاؤ کہ ڈبودو خود کو
یا تو احساس کی بھٹی میں‌میری طرح جلو
ورنہ انساں نہ کہو خاک کے تودو خود کو
نعیم
31-01-2009, 07:41:18
اک عشق کا غم آفت اس پہ یہ دل آفت
یا غم نہ دیا ہوتا یا دل نہ دیا ہوتا
خوشی
03-02-2009, 21:28:39
عشق کے مرحلے کہاں تک ھیں
مصطفی :saw: جانے مصطفی جانے :saw: :
نعیم
04-02-2009, 07:06:33
وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اسکا حال بتائیں کیا
کوئی مہر نہیں، کوئی قہر نہیں، پھر سچا شعر سنائیں کیا؟
خوشی
05-02-2009, 19:28:13
عشق چھپتا ھے کب چھپانے سے
لاکھ تو اب اسے چھپا جاناں
نعیم
06-02-2009, 08:27:43
مِری زیست پُر مسرت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی
کوئی بہتری کی صورت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی
مجھے حُسن نے ستایا ، مجھے عشق نے مِٹایا
کسی اور کی یہ حالت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
خوشی
07-02-2009, 03:15:46
اظپار عشق وہ بھی بروئے ستمگراں
کوہ گراں کو سنگ گراں دے دیا گیا
نعیم
07-02-2009, 11:22:08
عشق اول، عشق آخر، عشق کُل
عشق برگ و عشق نخل و عشق گُل

علامہ اقبال :ra:

خوشی
09-02-2009, 22:31:30
گر بازی عشق کی بازی ھے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا
گر جیت گئے تو کیا کہنا ہارے بھی تو بازی مات نہیں
نور
10-02-2009, 03:16:08
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
درد کی دوا پائی، درد بے دوا پایا

غالب

نعیم
10-02-2009, 06:30:12
آج کیوں بے سبب اداس ہے جی
عشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھی
خوشی
10-02-2009, 07:10:47
حسن تھا اور عشق تھا نام نہیں تھا خوف کا
سارے جہاں کے سامنے ساری ہی بات کہہ گئے
نعیم
10-02-2009, 07:50:54
لپٹا ہے میرے دل سے کسی راز کی صورت
وہ شخص کہ جس کو مرا ہونا بھی نہیں ہے
یہ عشق و محبت کی روایت بھی عجیب ہے
پانا بھی نہیں ہے اسے کھونا بھی نہیں ہے
خوشی
15-02-2009, 05:04:39
[align=justify:dauelbuw]ایک ایسی بھی گھڑی عشق میں آئی تھی کہ ہم
خاک کو ہاتھ لگاتے تو ستارا کرتے[/align:dauelbuw]
نعیم
15-02-2009, 06:38:31
عشق کرو گے تو کماؤ گے نام
تہمتیں بٹتی نہیں خیرات میں

فراز

خوشی
16-02-2009, 05:26:02
تھی جو محبتوں میں نزاکت نہیں رہی
کیا عشق کیجیے کہ روایت نہیں رہی
نعیم
16-02-2009, 21:09:07
دل عشق میں بے پایاں، سودا ہو تو ایسا ہو
دریا ہو تو ایسا ہو، صحرا ہو تو ایسا ہو
اس درد میں کیا کیا ہے، رسوائی بھی لذّت بھی
کانٹا ہو تو ایسا ہو، چھبتا ہو تو ایسا ہو
خوشی
19-02-2009, 04:11:28
اول عشق میں خبر بھی نہ تھی
عزتیں بخشتی ھے رسوائی
نعیم
21-02-2009, 07:35:18
اس عشق میں جاں کو کھونا ہے، ماتم کرنا ہے، رونا ہے
میں جانتا ہوں جو ہونا ہے، پر کیا کروں جب دل آ جائے
خوشی
22-02-2009, 06:30:54
یہ تو وہ آگ ھے جو خود ہی سلگ اٹھتی ھے
عشق میں کوئی گرفتار نہیں ہوتا یار
نعیم
24-02-2009, 19:07:41
عشق میں دنیا گنوائی ہے نہ جاں دی ہے فراز
پھر بھی ہم اہل محبت کی مثالوں میں رہے۔
راشد احمد
12-03-2009, 14:35:29
ستاروں کے آگے جہاں‌اور بھی ہیں
ابھی عشق کےامتحان اور بھی ہیں
حسن رضا
12-03-2009, 14:38:37
خوشی جی نعیم بھائ راشد جی بہت خوب :a180: :dilphool:
حسن رضا
12-03-2009, 14:51:01
[align=justify:1lysm7df]ابھی تو عشق میں ایسا بھی حال ہونا ہے
کہ اشک روکنا تم سے محال ہونا ہے[/align:1lysm7df]
خوشی
13-03-2009, 20:29:49
عشق تو اس سے سبھی کرتے ھیں
بات تو جب ھے نباہیں یعنی
بےمثال
14-03-2009, 02:31:00
عشق اور اشک میں انسان بدل جاتے ہیں
درد رہتا ہے ہمیشہ یونہی پنہاں‌ان میں
آزاد
18-03-2009, 01:31:35
اِس شہرِ خرابی میں غمِ عشق کے مارے
زندہ ہیں یہی بات بڑی بات ہے پیارے
حسرت ہے کوئی غنچہ ہمیں پیار سے دیکھے
ارماں ہے کوئی پھول ہمیں دل سے پکارے
خوشی
18-03-2009, 04:41:27
وصل تو کچھ بھی نہیں ھے اس میں
عشق میں ہجر اساسی ھے بہت
نعیم
24-03-2009, 06:48:27
تو خدا ہے نہ ميرا عشق فرشتوں جيسا
دونوں انساں ہيں تو کيوں اتنے حجابوں ميں مليں
خوشی
31-03-2009, 05:54:58
مارا بھی اسی عشق نے زندہ بھی کیا ھے
تریاق بھی دیکھو اسی زہر میں نکلا
نعیم
31-03-2009, 20:02:56
ہر بنِ مو سے دمِ ذکر نہ ٹپکے خون عناب
حمزہ کا قِصّہ ہوا، عشق کا چرچا نہ ہوا

مرزا غالب

آزاد
04-04-2009, 16:15:14
شبِ غم اے میرے اللہ بسر بھی ہو گی
رات ہی رات رہے گی کے سحر بھی ہو گی
میں یہ سنتا ہوں کہ وہ دنیا کی خبر رکھتے ہیں
جو یہ سچ ہے تو انہیں میری خبر بھی ہو گی
چین ملنے سے ہے ان کے نہ جدا ہونے سے
آخر اے عشق کسی طرح بسر بھی ہو گی
نعیم
07-04-2009, 06:58:51
افشائے رازِ عشق میں گو ذلتیں ہوئیں
لیکن اُسے جتا تو دیا، جان تو گیا
آزاد
12-04-2009, 22:57:12
وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اس کا حال بتائیں کیا
کوئی مہر نہیں کوئی قہر نہیں پھر سچا شعر سنائیں کیا
نعیم
13-04-2009, 08:26:39
کم جانتے تھے ہم بھی غمِ عشق کو، پر اب
دیکھا تو کم ہوئے پہ غمِ روزگار تھا

غالب

مبارز
18-04-2009, 02:09:19
میرے دردِ عشق کو رسوا کیا
آپ نے جو کچھ کیا اچھا کیا
عدنان بوبی
18-04-2009, 04:29:52
پیار کے دیپ جلانے والے کچھ پاگل پاگل ہوتے ہیں
اپنی جان سے جانے والے کچھ پاگل پاگل ہوتے ہیں
عشق کے سمندر میں بھیگ کے ہم کو یہ احساس ہوا
دل کی بات میں آنے والے کچھ پاگل ہوتے ہیں،
نعیم
18-04-2009, 08:35:15
فطرت عشق کے نثار اس کو مرا خیال تھا
صدقے غرورِ حسن کے مجھ سے چھپا گیا کوئی
راشد احمد
19-04-2009, 18:37:56
یہ عشق نہیں آسان بس اتنا سمجھ لے
ایک آگ کا دریا ہے پار کرکے جانا ہے۔
عدنان بوبی
19-04-2009, 18:42:34
ع عشق تاں سمجھ آوے میں نو ش تے ق کون سمجھاوے میں نو
دنیا دکھ دی تھاں ایسی کوئی دنیا دی کہانی سناوے میں نو
راشد احمد
21-04-2009, 18:10:11
ستاروں کے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔
خوشی
22-04-2009, 04:09:34
ایسا ضدی تھا مرا عشق نہ بہلا پھر بھی
لوگ سچ مچ کئی مہتاب اٹھا کر لے آئے
نعیم
22-04-2009, 11:12:53
کلیجہ چوٹ کھانے کو اگر مائل نہیں ہوتا
سرور و کیف ہرگز عشق میں شامل نہیں ہوتا
راشد احمد
27-04-2009, 13:29:21
مریضِ عشق پر رحمت خدا کی
درد بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
نعیم
01-05-2009, 10:05:12
جا اور کوئی ضبط کی دنیا تلاش کر
اے عشق ! ہم تو اب تیرے قابل نہیں رہے
مبارز
03-05-2009, 01:22:14
دن کوآہیں ہیں ، رات کو آنسو
عشق ہے کھیل آگ پانی کا
بےباک
04-05-2009, 01:49:38
کہتے ہیں عشق نام کے گزرے ہیں اِک بزرگ
ہم بھی مرید اسی سلسلے کے ہیں
خوشی
04-05-2009, 06:01:48
لٹ چکے عشق میں اک بار تو پھر عشق کرو
کس کو معلوم کہ تقدیر سنور بھی جائے
مبارز
05-05-2009, 01:11:20
دِل ہم کو لُٹا بیٹھا ، ہم دل کو لٹا بیٹھے
اِس عشق میں جینے سے ،ہم ہاتھ اُٹھا بیٹھے
نعیم
05-05-2009, 08:29:12
وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اسکا حال بتائیں کیا
کوئی مہر نہیں، کوئی قہر نہیں، پھر سچا شعر سنائیں کیا
نعیم
06-05-2009, 07:09:54
بھا گیا دل کو ترے نت نئے آزار کا لطف
عشق نے خوب دیا ہمت ِ دشوار کا لطف
نیلو
06-05-2009, 21:42:39
نہ راہزن، نہ کسی رہنما نے لوٹ لیا
ادائے عشق کو رسمِ وفا نے لوٹ لیا

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s